منگلورو ،7؍ مارچ (ایس او نیوز)بی جے پی رکن پارلیمان پرتاپ سنہا نے عیسائیوں کو سرکاری سہولتوں سے محروم کرنے کی مانگ کرتے ہوئے جو اشتعال انگیز بیان دیا تھا اس کے خلاف کانگریس اقلیتی مورچہ کی جانب سے میونسپل کارپویشن کے پاس واقع گاندھی جی کے مجسمے کے سامنے موم بتیاں جلا کر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
اس موقع پر کانگریس ضلع کمیٹی کے صدر ہریش کمار نے تعلیم اور صحت کے میدان بیش بہا خدمات انجام دینے والے عیسائی طبقے کے خلاف اس طرح اشتعال انگیز بیان دینے کی مذمت کرتے ہوئے پرتاپ سنہا کو ایک پاگل قراردیااور کہا کہ کانگریس کی طرف سے چندہ کرکے پرتاپ سنہا کا دماغی علاج بنگلورو میں کروایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مختلف فرقے اور طبقات ہندوستان میں بھائی چارگی کے ساتھ رہتے آئے ہیں ، لیکن بی جے پی نے ہمیشہ تفرقہ ڈالنے کا کام کیا ہے۔
سابق رکن اسمبلی جے آر لوبو نے کہا کہ 24 فروری کو کے ڈی پی میٹنگ کے دوران پرتاپ سنہا نے سرکاری افسران کے سامنے ہی عیسائیوں کے خلاف متنازعہ بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ گلے میں صلیب لٹکا کر آنے والوں کو عیسائیوں کے طور پر پہنچاننا آسان ہے ، ایسے لوگوں کے مسائل حل نہ کیے جائیں۔ یہ بیان دیش کے اتحاد کے لئے بہت بڑا دھچکا ہے۔
کانگریسی لیڈر متھن رائے نے مطالبہ کیا کہ اشتعال انگیز بیان دینے والے پرتاپ سنہا کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ بی جے پی لیڈروں کی طرف سے ایسے بیانات بند ہونے چاہئیں ۔
سابق وزیر رما ناتھ رائے نے مطالبہ کیا کہ ایک مخصوص فرقے کو نشانہ بنانے اور دل آزاری کرنے والے پرتاپ سنہا کی پارلیمانی رکنیت باطل قرار دی جانی چاہیے۔ اگر بی جے پی کو عیسائیوں پر فخر ہے تو پرتاپ سنہا کے خلاف 24 گھنٹے کے اندر کارروائی کرے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو اپنی بری چال بدلنی ہوگی ورنہ آنے والے دنوں میں بڑا نقصان ہوگا۔ امن کے ساتھ جینے کو بزدلی نہ سمجھا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ احتیاط کا رویہ اپنائے۔
جنوبی کینرا کانگریس اقلیتی مورچہ کے صدر شاہ الحمید کی قیادت میں منعقدہ اس احتجاجی مظاہرے میں بڑی تعداد میں کانگریسی لیڈران اور کارکنا ن شامل تھے۔